مہ خانے میں اے ساقی! یہ رات سہانی ہے
ہر اک کے آنگن میں آنگور کا پانی ہے
پیمانے سے اے ساقی کچھ نشہ نہیں ہوتا
آنکھوں سے پلا مجھ کو جو تجھ نے پلانی ہے
ہم آج نہ کہیں گے توبہ کی قسم ساقی
لا آج پلامجھ کو جتنی بھی پلانی ہے
کہہ دو یہ حسینوں سے مغرور ہو تم جس پر
ڈھل جائے گا یہ حسن اک دن یہ دنیاتو فانی ہے
ان چاند ستاروں کے لب پہ یہ فسانہ ہے
میں رات کا راجہ ہوں وہ رات کی رانی ہے
اے کاش ساقی ان سے یہ بات کوئی کہہ دے
دو دن کی ہے یہ دنیا دو دن کی جوانی ہے

No comments:
Post a Comment