اس نے آنچل کو ہٹایا تو عجب
کھیل ہوا
تتلیاں آ گئی رخسار کا بوسہ لینے
اٹھو غالب میں آگیا ہو تیرے
کہنے پر
چلو چلتے ہیں اب دیوار کا بوسہ لینے
آج سب پھول نزاکت کا مزہ
چکھیں گے
کوئی آیا ہے کبھی خار کا بوسہ لینے
زخمی لب دیکھ کر تجسس میں نہ
پڑو صاحب
میں گیا تھا مزاجِ یار کا بوسہ لینے
جب یعنی, گویا و گمان, کو
چوما میں نے
جون آئے میرے اشعار کا بوسہ لینے
جب بھی کاغذ پے بناتا ہوں
تمھاری آنکھیں
لوگ آتے ہیں اس شاہکار کا بوسہ لینے
آج یوں درد کی شدت ہے کہ میخانے
کا
ساقی خود آئے گا میخار کا بوسہ لینے
خود کو اتنا نا سنوارا کرو
اب دیکھو ناں
آئینہ گِر پڑا سنگھار کا بوسہ لینے
کر لیا میں نے تیمم تو پھر
نکلے آنسوؤں
کہ آؤ چلتے ہیں اسمِ یار کا بوسہ لینے
میں تو اقرار کر کے کب کا
لوٹ آیا ہوں
دل وہیں بیٹھ گیا انکار کا بوسہ لینے
ہم بھی دیکھیں شفا نام کی
چیز ہے کیا اٙنس
آؤ جاناں کبھی بیمار کا بوسہ لینے

No comments:
Post a Comment