رِیاضی دان اُسے فرض
کر کے دیکھیں تو
رِیاضی بھول ہی جائیں
، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کہے جو فرض کریں ایکس
، وائے سے ہے بڑا
سب ایکس جشن منائیں
، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جذر بھی لے لیں اَگر
دِلکشی کا دِلبر کی
جواب گن نہیں پائیں
، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جو اُس کا مجنوں بنے
، اَرشمیدس اُس کو کہے
مجھے رِیاضی پڑھائیں
، وُہ اِتنا دِلکش ہے
صفر ، صفر ہے فقط اِس
لیے کہ کر نہ سکا
شمار اُس کی اَدائیں
، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کمالِ حُسن کو ہم دو
سے ضرب دیتے مگر
عدد کہاں سے منگائیں
، وُہ اِتنا دِلکش ہے
رِیاضی میں جہاں
’’بے اِنتہا‘‘ بتانا ہو
دو آنکھیں اُس کی
بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے..

No comments:
Post a Comment