Wednesday, January 29, 2020

ارادہ روز کرتا ہوں ، مگر کچھ کر نہیں سکتا Ghazals Point - H. Malik Collections


ارادہ روز کرتا ہوں ، مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی ہوں ، محبت کر نہیں سکتا
بُرے ہو یا کہ اچھے ہو ، مجھے اِس سے نہیں مطلب
مجھے مطلب سے مطلب ہے ، میں تم سے لڑ نہیں سکتا
یہاں ہر دوسرا انساں خُدا خود کو کہلات ہے
خُدا بھی وہ کہ جو اپنی ہی جھولی بھر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں ! مجھے تم سے نہیں اُلفت
فقط لفظی محبت ہے میں تم پہ مر نہیں سکتا
تمہاری بات سُن لی ہے، بہت دُکھ کی کہانی ہے
سنو تم بعد میں آنا ! ابھی کچھ کر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا
صنم تیری محبت نے مجھے نفرت سکھائی ہے
مگر اب اجنبی ہو تم، میں نفرت کر نہیں سکتا
بھلے میں نے نہیں چاہا، مگر تم نے تو چاہا ہے
تمہاری یاد کو دل سے تو باہر کر نہیں سکتا
نجانے آدمی کیوں آدمی سے خوف کھاتا ہے
جو اپنے رب سے ڈرتا ہو کسی سے ڈر نہیں سکتا
ارے او عشق ! چل جا کام کر کس کو بلاتا ہے ؟
حُسن بازار میں بِکتا ہے سُولی چڑ ھ نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
مری آنکھوں میں آنسو ہیں ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا

Monday, January 27, 2020

اس نے آنچل کو ہٹایا تو عجب کھیل ہوا Ghazals Point - H. Malik Collections


اس نے آنچل کو ہٹایا تو عجب کھیل ہوا

تتلیاں آ گئی رخسار کا بوسہ لینے

اٹھو غالب میں آگیا ہو تیرے کہنے پر

چلو چلتے ہیں اب دیوار کا بوسہ لینے

آج سب پھول نزاکت کا مزہ چکھیں گے

کوئی آیا ہے کبھی خار کا بوسہ لینے

زخمی لب دیکھ کر تجسس میں نہ پڑو صاحب

میں گیا تھا مزاجِ یار کا بوسہ لینے

جب یعنی, گویا و گمان, کو چوما میں نے

جون آئے میرے اشعار کا بوسہ لینے

جب بھی کاغذ پے بناتا ہوں تمھاری آنکھیں

لوگ آتے ہیں اس شاہکار کا بوسہ لینے

آج یوں درد کی شدت ہے کہ میخانے کا

ساقی خود آئے گا میخار کا بوسہ لینے

خود کو اتنا نا سنوارا کرو اب دیکھو ناں

آئینہ گِر پڑا سنگھار کا بوسہ لینے

کر لیا میں نے تیمم تو پھر نکلے آنسوؤں

کہ آؤ چلتے ہیں اسمِ یار کا بوسہ لینے

میں تو اقرار کر کے کب کا لوٹ آیا ہوں

دل وہیں بیٹھ گیا انکار کا بوسہ لینے

ہم بھی دیکھیں شفا نام کی چیز ہے کیا اٙنس

آؤ جاناں کبھی بیمار کا بوسہ لینے


Tuesday, January 21, 2020

رِیاضی دان اُسے فرض کر کے دیکھیں تو Ghazals Point - H. Malik Collections


رِیاضی دان اُسے فرض کر کے دیکھیں تو
رِیاضی بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کہے جو فرض کریں ایکس ، وائے سے ہے بڑا
سب ایکس جشن منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جذر بھی لے لیں اَگر دِلکشی کا دِلبر کی
جواب گن نہیں پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جو اُس کا مجنوں بنے ، اَرشمیدس اُس کو کہے
مجھے رِیاضی پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
صفر ، صفر ہے فقط اِس لیے کہ کر نہ سکا
شمار اُس کی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کمالِ حُسن کو ہم دو سے ضرب دیتے مگر
عدد کہاں سے منگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
رِیاضی میں جہاں ’’بے اِنتہا‘‘ بتانا ہو
دو آنکھیں اُس کی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے..

مہارا نام میں لکھتا ہوں کاغذ پر Ghazals Point - H. Malik Collections


تمہارا نام میں لکھتا ہوں کاغذ پر..
دیکھتا ہوں، سوچتا ہوں
وہ کاغذ پھاڑ دیتا ہوں..
پھر اُن کاغذ کے ٹُکڑوں کو
مُٹّھی میں بھینچتا ہوں
پھینک دیتا ہوں
وہیں پر بیٹھ کر لڑتا ہوں خود سے
وہی کاغذ اُٹھاتا ہوں..
آنکھوں سے لگاتا ہوں
پھر اپنے پاس رکھے پانی کے پیالے میں
وہ کاغذ ڈال دیتا ہوں
میں تُم کو سوچتا ہوں
پھر اُس پانی کو
تعویذِ محبت جان کر پی لیتا ہوں

بہت تکلیف دیتا ہے کسی کو الوداع کہنا Ghazals Point - H. Malik Collections


بہت تکلیف دیتا ہے
کسی کو الوداع کہنا
دکھائی کچھ نہیں دیتا
سنائی کچھ نہیں دیتا
فقط کچھ,کہ کپ کپاتے لفظ
ہونٹوں پر ٹہر جاںٌیں
ابھرتی ڈوبتی دھڑ کن
اسے آواز دیتی ہے
کوئی اپنا کہ جس کا نام
اپنے دل پہ لکھا ہو
جس کے واسطے دل سے
دعاہیں ہی نکلتی ہو
بہت تکلیف دیتا ہے
اسی کو  الوداع کہنا
جس کو دل میں بسایا ہو
برے ہی مان سے
جس کو اپنا بنایا ہو
بہت  تکلیف دیتا ہے
اسی کو  الوداع کہنا..

زخم کھاؤں، تجھے تلوار بھی میں لا کر دوں Ghazals Point - H. Malik Collections


زخم کھاؤں، تجھے تلوار بھی میں لا کر دوں
پست قامت ہو تو دستار بھی میں لا کر دوں
میں نے اظہار کی کُنجی تو تجھے لا دی تھی
اب تجھے،، جرات ِ اظہار بھی میں لا کر دوں
کیا تيرے حُسن پہ، میں پہلے فدا ہو جاؤں
اور پھر خود سا پرستار بھی میں لا کر دوں
کوئی بازار سجا بھی تو،،،،،،،، یہ ناممکن ہے
تجھ کو گفتار بھی کردار بھی میں لا کر دوں
یہ محبت میں ميرے دوست کہاں لکھا ہے،؟
تجھ کو انکار پہ اقرار بھی،،،،، میں لا کر دوں
جب کوئی شعر نہ ہو پائے،، تو وہ کہتا ہے
اُس کو بِکتا ہوا فنکار بھی میں لا کر دوں،
کاتب ِ وقت نے،،،،،،،،،،،، کچھ سوچ لکھا ہو گا
بے خبر شخص کو "اخبار" بھی میں لا کر دوں

یری خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے. Ghazals Point - H. Malik Collections


تیری خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے.
جنکو اک عمر کلیجے سے لگاۓ رکھا.
جنکو دنیا کی نگاہوں سے چھپاۓ رکھا.
دین جنکو جنہیں ایمان بناۓ رکھا.
پیار میں ڈوبے ہوۓ خط میں جلاتا کیسے.
جنکا ہر لفظ مجھے یاد تھا پانی کیطرح.
یاد تھے مجھکو جو پیغام زبانی کی طرح.
مجھ کو پیارے تھے جو انمول نشانی کیطرح.
تیرے ہاتھوں کے لکھے خط میں جلاتا کیسے.
تو نے دنیا کی نگاھوں سے بچا کر لکھے.
سالہا سال میرے نام برابر لکھے.
کبھی دن میں تو کبھی رات کو اٹھ کر لکھے.
تیری خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے.
پیار میں ڈوبے ہوۓ خط میں جلاتا کیسے.
تیرے ہاتھوں کے لکھے خط میں جلاتا کیسے.
تیرے خط آج میں دریامیں بہا آیا ہوں.
آگ بہتے ہوۓ پانی میں لگا آیا ہوں...

عشق کہتا ہے برملا ، ہوں مَیں Ghazals Point - H. Malik Collections


عشق کہتا ہے برملا ، ہوں مَیں
دل کے اندر اُتر چُکا ہوں مَیں
تم نے آنکھوں سے کر دیا تھا پرے
آج ہر سمت ، ہر جگہ ہوں میں
میں نے بھی کون سا کمال کیا؟
وہ بھی کہتا ہے ، بےوفا ہوں میں
یوں پشیمان ہو رہا ہے فلک
جیسے سچ مُچ کوئی خطا ہوں میں
اُس کی نظریں ہیں بے حجاب اگر
دل کا دعویٰٰ ہے، پارسا ہوں میں
آئینے میں نہیں ہوں میں ، تم ہو
آئینے سے بہت خفا ہوں میں
میں نے پوچھا تھا تیرگی کاعلاج
ہنس کے کہنے لگا، دیٌا ہوں میں ؟
اب یہ جانا کہ کچھ نہیں ہوں مگر
پہلے لگتا تھا کیا سے کیا ہوں میں
عشق کو آج تم بُرا نہ کہو
عشق میں آج مُبتلا ہوں میں
میں نے تنگ آ کے کہہ دیا، جاؤ
روز کہتا تھا ، جا رہا ہوں میں
یوں مجھے آزما رہا ہے بتول !۔
جیسے بندہ نہیں ، خُدا ہوں میں

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے Ghazals Point - H. Malik Collections


وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ہے
یہ تجھکو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر تیرا انتظار کرنا ہے
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسوؤں کے چراغ
کبھی یہ جشن سرِ رہگزر کرنا ہے
وہ مسکرا کے نئے وسوسوں میں ڈال گیا
خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ہے
تیرے فراق میں دن کس طرح کٹے اپنے
کہ شغلِ شب تو ستارے شمار کرنا ہے
چلو یہ اشک ہی موتی سمجھ کے بیچ آئیں
کسی طرح تو ہمیں روزگار کرنا ہے
خدا خبر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن
خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے..

Sunday, January 19, 2020

Ek Ajeeb see paheli ha zindagi - Ghazals Point - H. Malik Collections


Ek Ajeeb see paheli ha zindagi
Sab k sath hotay hoye b akeli a zindagi

Kabi to ek pyar sa armaan ha zindagi
Tou kabi dard se bhara tofaan ha zindagi

Kabi phoolon jesi masoom ha zindagi
To kabi gunahon ka bojh ha zindagi

Koi to bata de muje kia ha zindagi
Suna hai chand roz ki mehmaan ha zindagi

Zindagi se chahay jitna marzi pyar kar lo
Hoti to akhir bewafa ha zindagi

Kuch likha tha teri yaad me - Ghazals Point - H. Malik Collections

Kuch likha tha teri yaad me,
Mere ansuon ne mita diya

Doston se chupai thi dil ki bat
Mere chehray ne sb kuch bata diya

Meri chahton ka b kia kuch sila mila
Jese toot k chaha usi ne bhola diya

Ek khat tha tere naam ka
Phir apne hi hathon se jala diya

Gila karna mera pesha nahi
Teri deed ki hasrat ha

Aa k dekh teri mohabbat ne
Mujko kia se kia bana diya

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے Ghazals Point - H. Malik Collections


سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
احمد فراز

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے Ghazals Point - H. Malik Collections


سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
احمد فراز

ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں Ghazals Point - H. Malik Collections


ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں
پیار کرتا ہوں مگر خوب انا رکھتا ہوں
یہ جو تم حسن کی تلوار لیے پھرتی ہو
سرد مہری سے اسے زنگ لگا سکتا ہوں
شعر لکھ سکتا ہوں، اک اور حسینہ پہ بہت
تجھ پہ لکھی تھی کبھی، غزل جلا سکتا ہوں
میں بدل سکتا ہوں کردار کہانی کے سبھی
تجھ کو رانی سے ابھی باندی بنا سکتا ہوں
میں کوئی رانجھا نہیں روتا پھروں جنگلوں میں
تیرے جاتے ہی نئی 'ہیر پٹا سکتا ہوں
تو بدل سکتی ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں
میری جاں! میں تجھے منٹوں میں بھلا سکتا ہوں..