وفا میں اب یہ ہنر
اختیار کرنا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار
کرنا ہے
یہ تجھکو جاگتے رہنے
کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر تیرا انتظار
کرنا ہے
ہوا کی زد میں جلانے
ہیں آنسوؤں کے چراغ
کبھی یہ جشن سرِ رہگزر
کرنا ہے
وہ مسکرا کے نئے وسوسوں
میں ڈال گیا
خیال تھا کہ اسے شرمسار
کرنا ہے
تیرے فراق میں دن کس
طرح کٹے اپنے
کہ شغلِ شب تو ستارے
شمار کرنا ہے
چلو یہ اشک ہی موتی
سمجھ کے بیچ آئیں
کسی طرح تو ہمیں روزگار
کرنا ہے
خدا خبر یہ کوئی ضد
کہ شوق ہے محسن
خود اپنی جان کے دشمن
سے پیار کرنا ہے..

No comments:
Post a Comment