Monday, January 13, 2020

جو سپنے ہم نے سجائے تھے Ghazals Point - H. Malik Collections

جو سپنے ہم نے سجائے تھے
کیا خبر تھی وہ خاکِ گل کے سائے تھے
روشنائی بھی نہ ملی ہم کو
ہم نے دیے بھی بہت جلائے تھے
مقدر ملا بھی تو یوں صاحب
جس میں غم ہی غم پائے تھے
وہ نہ سمجھے ورنہ ہم نے تو
زخم سبھی دکھائے تھے
خاموشی کی سزا دیکھنے کے واسطے
ہم مہ سے بھی گزر آئے تھے
مسکرا اُٹھے سب یہ دیکھ کر
جب انجمؔ دل کے ٹکڑے لائے تھے

No comments:

Post a Comment