Tuesday, January 21, 2020

عشق کہتا ہے برملا ، ہوں مَیں Ghazals Point - H. Malik Collections


عشق کہتا ہے برملا ، ہوں مَیں
دل کے اندر اُتر چُکا ہوں مَیں
تم نے آنکھوں سے کر دیا تھا پرے
آج ہر سمت ، ہر جگہ ہوں میں
میں نے بھی کون سا کمال کیا؟
وہ بھی کہتا ہے ، بےوفا ہوں میں
یوں پشیمان ہو رہا ہے فلک
جیسے سچ مُچ کوئی خطا ہوں میں
اُس کی نظریں ہیں بے حجاب اگر
دل کا دعویٰٰ ہے، پارسا ہوں میں
آئینے میں نہیں ہوں میں ، تم ہو
آئینے سے بہت خفا ہوں میں
میں نے پوچھا تھا تیرگی کاعلاج
ہنس کے کہنے لگا، دیٌا ہوں میں ؟
اب یہ جانا کہ کچھ نہیں ہوں مگر
پہلے لگتا تھا کیا سے کیا ہوں میں
عشق کو آج تم بُرا نہ کہو
عشق میں آج مُبتلا ہوں میں
میں نے تنگ آ کے کہہ دیا، جاؤ
روز کہتا تھا ، جا رہا ہوں میں
یوں مجھے آزما رہا ہے بتول !۔
جیسے بندہ نہیں ، خُدا ہوں میں

No comments:

Post a Comment