Monday, March 16, 2020

غالب نظر کے سامنے حسن و جمال تها


"غالب" نظر کے سامنے حسن و جمال تها ،،
"محسن" وہ بشر خود میں سراپا کمال تها ،،

ہم نے "فراز" ایسا کوئ دیکها نہیں تها ،،
ایسا لگا "وصی" کہ وہ گدڑی میں لعل تها ،،

اب "میر" کیا بیان کریں اسکی نزاکت ،،
ہم "فیض" اسے چهو نہ سکے یہ ملال تها ،،

اسکو "قمر" جو دیکها تو حیران رہ گۓ ،،
اے "داغ" تیری غزل تها وہ بیمثال تها ،،

"اقبال" تیری شاعری ہے جیسے باکمال ،،
وہ بهی "جگر" کے لفظوں کا پرکیف جال تها ،،

بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تها وہ "قتیل"
یعنی "رضا" یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تها

تُو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا



تُو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا

یوسفِ مصرِ تمنا تیرے جلوؤں کے نثار
میری بیداریوں کو خوابِ زلیخا نہ بنا

ذوقِ بربادیء دل کو بھی نہ کر تُو برباد
دل کی اُجڑی ہوئی بگڑی ہوئی دنیا نہ بنا

عشق میں دیدہ و دل شیشہ و پیمانہ بنا
جُھوم کر بیٹھ گئے ہم وہیں میخانہ بنا

یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں
دلِ مایوس کو مانوسِ تمنا نہ بنا

نگہِ ناز سے پوچھیں گے کسی دن یہ ذہین
تُو نے کیا کیا نہ بنایا کوئی کیا کیا نہ بنا..

Tuesday, March 10, 2020

تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے


تمہاری انجمن سے اُٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

چلو اچھا ہوا، کام آگئی دیوانگی اپنی
وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے.

پانیوں میں جیسے ، جلتا اک دیا رہ جائے گا



پانیوں میں جیسے ، جلتا اک دیا رہ جائے گا
آئینے میں عکس تیرا ،جاں فزا رہ جائے گا

تو گزر جائے گا، مانندِ صبا چھو کر مجھے
تن پہ تیرا لمس بس جادو بھرا رہ جائے گا

موسمی ہیں یہ پرندے، شاخ سے اڑ جائیں گے
اک پپیہا دل کا بس نغمہ سرا رہ جائے گا

کیسے مرجھائے گی اس کو ہجر کی باد ۔ سموم
وصل کا اک پھول یادوں میں کھلا رہ جائے گا

جذب لے جائے گا مجھ کو عشق کی منزل تلک
اور عقدے کھولتا، عقدہ کشا رہ جائے گا

تو نہ ہوگا تو جہاں میں کیا کمی ہو جائے گی
میں نہ ہوں گی ، کام ایسا کونسا رہ جائے گا

منتظر لمحوں کی وہ دے جائے گا اک اوڑھنی
پھول نرگس کا ان آنکھوں میں کھلا رہ جائے گا

بانسری سے سیکھ لیجئے سبق ، زندگی کےجینے کا


بانسری سے سیکھ لیجئے سبق ، زندگی کےجینے کا
کتنے چھید هیں سینے میں ...... پھر بھی گنگناتی هے

اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے



اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے
اپنا سمجھ کے زہر پلا دیجئے مجھے

اٹھے نہ تا کہ آپ کی جانب نظر کوئی
جتنی بھی تہمتیں ہیں لگا دیجئے مجھے

کیوں آپ کی خوشی کو مرا غم کرے اداس
اک تلخ حادثہ ہوں بھلا دیجئے مجھے

صدق و صفا نے مجھ کو کیا ہے بہت خراب
مکر و ریا ضرور سکھا دیجئے مجھے

میں آپ کے قریب ہی ہوتا ہوں ہر گھڑی
موقع کبھی پڑے تو صدا دیجئے مجھے

ہر چیز دستیاب ہے بازار میں عدم
جھوٹی خوشی خرید کے لا دیجئے مجھے

بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیان وہ شخص



بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیان وہ شخص
اُداس کرکے ہمیں چل دیا کہاں وہ شخص

وہ جس کے نقشِ قدم سے چراغ جلتے تھے
جلے چراغ تو خود بن گیا دھواں وہ شخص

قریب تھا تو کہا ہم نے سنگدل بھی اُسے
ہوا جو دور تو لگتا ہے جانِ جاں وہ شخص

اُس ایک شخص میں تھیں دلربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے مگر کہاں وہ شخص

وہ اس کا حسنِ دلآرا کہ چپ گناہ لگے
جو بے زباں تھے انھیں دے گیا زباں وہ شخص

یہ اس لیے کہ چمن کی فضا اُداس نہ ہو
رہا ہے قیدِ قفس میں بھی نغمہ خواں وہ شخص

چھپا لیا جسے پت جھڑ کے زرد پتوں نے
ابھی تلک ہے بہاروں پہ حکمراں وہ شخص

ہمیں تو پیاس کے صحرا میں گنگناتے ہوئے
دکھائی دیتا ہے اِک بحرِ بیکراں وہ شخص

قتیل ؔ کیسے بھلائیں ہم اہلِ درد اُسے
دلوں میں چھوڑ گیا اپنی داستاں وہ شخص

اب مجھ میں حال کہنے کا بھی حوصلہ نہیں

اب مجھ میں حال کہنے کا بھی حوصلہ نہیں !
بس ہجر ہے ذرا سا ! کوئی مسئلہ نہیں !

مت پوچھ کیسا ربط ہوا ! اب کے درمیاں !
ہم مل نہیں رہے ہیں ! مگر فاصلہ نہیں !

اک شخص کے وسیلے سے آئے ہیں مرے پاس
مرا تو ان دکھوں سے ! کوئی واسطہ نہیں !

مت پوچھ کس نے ،کیسے ! تعلق پہ بات کی !
جب سر جھکا کے میں نے کہا ! رابطہ نہیں  !

وہ اپنی راہ مڑ گیا ! میں سوچتی رہی !
اب کس طرف کو جاؤں ! کہیں راستہ نہیں

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ


سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ

ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے
اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ

تارہ بن کے دور افق پر کانپے، لرزے، ڈولے
کچی ڈور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ

دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی
روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ

انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسان
میرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ

سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیر
کبھی نہ ہوگی پوری تیرے دل کی ایک امنگ

شبنم کوئی جو تجھ سے ہارے، جیت پہ مان نہ کرنا
جیت وہ ہوگی جب جیتو گی اپنے آپ سے جنگ

Saturday, February 29, 2020

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر



غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر
وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر

تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کر
ابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر

نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کو
نظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر

غم عمر مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاں
نہ چمن میں پھینک دینا کسی پھول کو مسل کر

ہیں کسی کے منتظر ہم مگر اے امید مبہم
کہیں وقت رہ نہ جائے یوں ہی کروٹیں بدل کر

مرے دل کو راس آیا نہ جمود غیر فانی
ملی راہ زندگانی مجھے خار سے نکل کر

مری تیز گامیوں سے نہیں برق کو بھی نسبت
کہیں کھو نہ جائے دنیا مرے ساتھ ساتھ چل کر

کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل
مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

ہیں شکیلؔ زندگی میں یہ جو وسعتیں نمایاں
انہیں وسعتوں سے پیدا کوئی عالم غزل کر

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے



زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے
یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے

اجنبی بن کے نہ مل عمر گریزاں ہم سے
تھے کبھی ہم بھی ترے ناز اٹھانے والے

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

کس سے پوچھوں یہ سیہ رات کٹے گی کس دن
سو گئے جا کے کہاں خواب دکھانے والے

اب جو روتے ہیں مرے حال زبوں پر اخترؔ
کل یہی تھے مجھے ہنس ہنس کے رلانے والے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے



سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

احمد فراز

ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں



ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں
پیار کرتا ہوں مگر خوب انا رکھتا ہوں

یہ جو تم حسن کی تلوار لیے پھرتی ہو
سرد مہری سے اسے زنگ لگا سکتا ہوں

شعر لکھ سکتا ہوں، اک اور حسینہ پہ بہت
تجھ پہ لکھی تھی کبھی، غزل جلا سکتا ہوں

میں بدل سکتا ہوں کردار کہانی کے سبھی
تجھ کو رانی سے ابھی باندی بنا سکتا ہوں

میں کوئی رانجھا نہیں روتا پھروں جنگلوں میں
تیرے جاتے ہی نئی 'ہیر پٹا سکتا ہوں

تو بدل سکتی ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں
میری جاں! میں تجھے منٹوں میں بھلا سکتا ہوں

Wednesday, January 29, 2020

ارادہ روز کرتا ہوں ، مگر کچھ کر نہیں سکتا Ghazals Point - H. Malik Collections


ارادہ روز کرتا ہوں ، مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی ہوں ، محبت کر نہیں سکتا
بُرے ہو یا کہ اچھے ہو ، مجھے اِس سے نہیں مطلب
مجھے مطلب سے مطلب ہے ، میں تم سے لڑ نہیں سکتا
یہاں ہر دوسرا انساں خُدا خود کو کہلات ہے
خُدا بھی وہ کہ جو اپنی ہی جھولی بھر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں ! مجھے تم سے نہیں اُلفت
فقط لفظی محبت ہے میں تم پہ مر نہیں سکتا
تمہاری بات سُن لی ہے، بہت دُکھ کی کہانی ہے
سنو تم بعد میں آنا ! ابھی کچھ کر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا
صنم تیری محبت نے مجھے نفرت سکھائی ہے
مگر اب اجنبی ہو تم، میں نفرت کر نہیں سکتا
بھلے میں نے نہیں چاہا، مگر تم نے تو چاہا ہے
تمہاری یاد کو دل سے تو باہر کر نہیں سکتا
نجانے آدمی کیوں آدمی سے خوف کھاتا ہے
جو اپنے رب سے ڈرتا ہو کسی سے ڈر نہیں سکتا
ارے او عشق ! چل جا کام کر کس کو بلاتا ہے ؟
حُسن بازار میں بِکتا ہے سُولی چڑ ھ نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
مری آنکھوں میں آنسو ہیں ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا

Monday, January 27, 2020

اس نے آنچل کو ہٹایا تو عجب کھیل ہوا Ghazals Point - H. Malik Collections


اس نے آنچل کو ہٹایا تو عجب کھیل ہوا

تتلیاں آ گئی رخسار کا بوسہ لینے

اٹھو غالب میں آگیا ہو تیرے کہنے پر

چلو چلتے ہیں اب دیوار کا بوسہ لینے

آج سب پھول نزاکت کا مزہ چکھیں گے

کوئی آیا ہے کبھی خار کا بوسہ لینے

زخمی لب دیکھ کر تجسس میں نہ پڑو صاحب

میں گیا تھا مزاجِ یار کا بوسہ لینے

جب یعنی, گویا و گمان, کو چوما میں نے

جون آئے میرے اشعار کا بوسہ لینے

جب بھی کاغذ پے بناتا ہوں تمھاری آنکھیں

لوگ آتے ہیں اس شاہکار کا بوسہ لینے

آج یوں درد کی شدت ہے کہ میخانے کا

ساقی خود آئے گا میخار کا بوسہ لینے

خود کو اتنا نا سنوارا کرو اب دیکھو ناں

آئینہ گِر پڑا سنگھار کا بوسہ لینے

کر لیا میں نے تیمم تو پھر نکلے آنسوؤں

کہ آؤ چلتے ہیں اسمِ یار کا بوسہ لینے

میں تو اقرار کر کے کب کا لوٹ آیا ہوں

دل وہیں بیٹھ گیا انکار کا بوسہ لینے

ہم بھی دیکھیں شفا نام کی چیز ہے کیا اٙنس

آؤ جاناں کبھی بیمار کا بوسہ لینے


Tuesday, January 21, 2020

رِیاضی دان اُسے فرض کر کے دیکھیں تو Ghazals Point - H. Malik Collections


رِیاضی دان اُسے فرض کر کے دیکھیں تو
رِیاضی بھول ہی جائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کہے جو فرض کریں ایکس ، وائے سے ہے بڑا
سب ایکس جشن منائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جذر بھی لے لیں اَگر دِلکشی کا دِلبر کی
جواب گن نہیں پائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
جو اُس کا مجنوں بنے ، اَرشمیدس اُس کو کہے
مجھے رِیاضی پڑھائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
صفر ، صفر ہے فقط اِس لیے کہ کر نہ سکا
شمار اُس کی اَدائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
کمالِ حُسن کو ہم دو سے ضرب دیتے مگر
عدد کہاں سے منگائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے
رِیاضی میں جہاں ’’بے اِنتہا‘‘ بتانا ہو
دو آنکھیں اُس کی بنائیں ، وُہ اِتنا دِلکش ہے..