ارادہ روز کرتا ہوں
، مگر کچھ کر نہیں سکتا
میں پیشہ ور فریبی
ہوں ، محبت کر نہیں سکتا
بُرے ہو یا کہ اچھے
ہو ، مجھے اِس سے نہیں مطلب
مجھے مطلب سے مطلب
ہے ، میں تم سے لڑ نہیں سکتا
یہاں ہر دوسرا انساں
خُدا خود کو کہلات ہے
خُدا بھی وہ کہ جو
اپنی ہی جھولی بھر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا
ہوں ! مجھے تم سے نہیں اُلفت
فقط لفظی محبت ہے میں
تم پہ مر نہیں سکتا
تمہاری بات سُن لی
ہے، بہت دُکھ کی کہانی ہے
سنو تم بعد میں آنا
! ابھی کچھ کر نہیں سکتا
محبت کی مسافت نے بہت
زخمی کیا مجھ کو
ابھی یہ زخم بھرنے
ہیں، میں آہیں بھر نہیں سکتا
صنم تیری محبت نے مجھے
نفرت سکھائی ہے
مگر اب اجنبی ہو تم،
میں نفرت کر نہیں سکتا
بھلے میں نے نہیں چاہا،
مگر تم نے تو چاہا ہے
تمہاری یاد کو دل سے
تو باہر کر نہیں سکتا
نجانے آدمی کیوں آدمی
سے خوف کھاتا ہے
جو اپنے رب سے ڈرتا
ہو کسی سے ڈر نہیں سکتا
ارے او عشق ! چل جا
کام کر کس کو بلاتا ہے ؟
حُسن بازار میں بِکتا
ہے سُولی چڑ ھ نہیں سکتا
یہاں ہر ایک چہرے پر
الگ تحریر لکھی ہے
مری آنکھوں میں آنسو
ہیں ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا

No comments:
Post a Comment