ہماری ہستی مٹا رہے ہو تمہاری مرضی
نشان عبرت بنا رہے ہو تمہاری مرضی
میرے جگر میں جفا کے خنجر اتار کر تم
وفا کے نغمے سنا رہے تو تمہاری مرضی
تمہاری خاطر جو ساری دنیا کو چھوڑ آئے
اسی سے دامن چرا رہے ہو تمہاری مرضی
میری امیدوں کے آشیانے اجاڑ کر تم
کسی کی دنیابسا رہے ہوتمہاری مرضی
تمہارا دید اک بہشتِ نظر ہے لیکن
تم اپنا چہرا چھپا رہے ہو تمہاری مرضی

No comments:
Post a Comment