کہانی درد کی میں زندگی سے کیا کہتا؟
یہ درد تو اسی نے دیا ہے اس سے کیا کہتا؟
گلہ کا تو مجھے بھی کرنا تھا پیاس کا لیکن!
جو خود ہی سوکھ گئی س ندی سے کیا کہتا؟
میرے عزیز مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھی
میں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتا؟
اندھیری رات نے مجھ کو بہت ستایا ہے
بھلا اب یہ بات میں روشنی سے کیا کہتا؟
تمام شہر میں جھوٹ کا راج تھا وصی!
میں اپنے غم کی حقیقت کسی سے کیا کہتا؟

No comments:
Post a Comment