Saturday, February 29, 2020

ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں



ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں
پیار کرتا ہوں مگر خوب انا رکھتا ہوں

یہ جو تم حسن کی تلوار لیے پھرتی ہو
سرد مہری سے اسے زنگ لگا سکتا ہوں

شعر لکھ سکتا ہوں، اک اور حسینہ پہ بہت
تجھ پہ لکھی تھی کبھی، غزل جلا سکتا ہوں

میں بدل سکتا ہوں کردار کہانی کے سبھی
تجھ کو رانی سے ابھی باندی بنا سکتا ہوں

میں کوئی رانجھا نہیں روتا پھروں جنگلوں میں
تیرے جاتے ہی نئی 'ہیر پٹا سکتا ہوں

تو بدل سکتی ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں
میری جاں! میں تجھے منٹوں میں بھلا سکتا ہوں

No comments:

Post a Comment