ایک سن سکتا ہوں تو
چار سنا سکتا ہوں
پیار کرتا ہوں مگر
خوب انا رکھتا ہوں
یہ جو تم حسن کی تلوار
لیے پھرتی ہو
سرد مہری سے اسے زنگ
لگا سکتا ہوں
شعر لکھ سکتا ہوں،
اک اور حسینہ پہ بہت
تجھ پہ لکھی تھی کبھی،
غزل جلا سکتا ہوں
میں بدل سکتا ہوں کردار
کہانی کے سبھی
تجھ کو رانی سے ابھی
باندی بنا سکتا ہوں
میں کوئی رانجھا نہیں
روتا پھروں جنگلوں میں
تیرے جاتے ہی نئی
'ہیر پٹا سکتا ہوں
تو بدل سکتی ہے تو
میں بھی بدل سکتا ہوں
میری جاں! میں تجھے
منٹوں میں بھلا سکتا ہوں

No comments:
Post a Comment