Saturday, February 29, 2020

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر



غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر
وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر

تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کر
ابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر

نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کو
نظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر

غم عمر مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاں
نہ چمن میں پھینک دینا کسی پھول کو مسل کر

ہیں کسی کے منتظر ہم مگر اے امید مبہم
کہیں وقت رہ نہ جائے یوں ہی کروٹیں بدل کر

مرے دل کو راس آیا نہ جمود غیر فانی
ملی راہ زندگانی مجھے خار سے نکل کر

مری تیز گامیوں سے نہیں برق کو بھی نسبت
کہیں کھو نہ جائے دنیا مرے ساتھ ساتھ چل کر

کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل
مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

ہیں شکیلؔ زندگی میں یہ جو وسعتیں نمایاں
انہیں وسعتوں سے پیدا کوئی عالم غزل کر

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے



زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے
یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے

اجنبی بن کے نہ مل عمر گریزاں ہم سے
تھے کبھی ہم بھی ترے ناز اٹھانے والے

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

کس سے پوچھوں یہ سیہ رات کٹے گی کس دن
سو گئے جا کے کہاں خواب دکھانے والے

اب جو روتے ہیں مرے حال زبوں پر اخترؔ
کل یہی تھے مجھے ہنس ہنس کے رلانے والے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے



سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

احمد فراز

ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں



ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں
پیار کرتا ہوں مگر خوب انا رکھتا ہوں

یہ جو تم حسن کی تلوار لیے پھرتی ہو
سرد مہری سے اسے زنگ لگا سکتا ہوں

شعر لکھ سکتا ہوں، اک اور حسینہ پہ بہت
تجھ پہ لکھی تھی کبھی، غزل جلا سکتا ہوں

میں بدل سکتا ہوں کردار کہانی کے سبھی
تجھ کو رانی سے ابھی باندی بنا سکتا ہوں

میں کوئی رانجھا نہیں روتا پھروں جنگلوں میں
تیرے جاتے ہی نئی 'ہیر پٹا سکتا ہوں

تو بدل سکتی ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں
میری جاں! میں تجھے منٹوں میں بھلا سکتا ہوں