تیری خوشبو میں بسے
خط میں جلاتا کیسے.
جنکو اک عمر کلیجے
سے لگاۓ
رکھا.
جنکو دنیا کی نگاہوں
سے چھپاۓ رکھا.
دین جنکو جنہیں ایمان
بناۓ
رکھا.
پیار میں ڈوبے ہوۓ
خط میں جلاتا کیسے.
جنکا ہر لفظ مجھے یاد
تھا پانی کیطرح.
یاد تھے مجھکو جو پیغام
زبانی کی طرح.
مجھ کو پیارے تھے جو
انمول نشانی کیطرح.
تیرے ہاتھوں کے لکھے
خط میں جلاتا کیسے.
تو نے دنیا کی نگاھوں
سے بچا کر لکھے.
سالہا سال میرے نام
برابر لکھے.
کبھی دن میں تو کبھی
رات کو اٹھ کر لکھے.
تیری خوشبو میں بسے
خط میں جلاتا کیسے.
پیار میں ڈوبے ہوۓ
خط میں جلاتا کیسے.
تیرے ہاتھوں کے لکھے
خط میں جلاتا کیسے.
تیرے خط آج میں دریامیں
بہا آیا ہوں.
آگ بہتے ہوۓ
پانی میں لگا آیا ہوں...

No comments:
Post a Comment