بھول
جانے کا ہنر مجھ کو سکھاتے جاؤ
جا رہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ
چلو رسماً ہی سہی مڑ کر مجھے دیکھ تو لو
توڑتے توڑتے تعلق کو نبھاتے جاؤ
فقط میرے دل سے اترجائیے گا
بچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گا
میں
سمجھا تھا تم ہو، تو کیا اور مانگوں؟
میری زندگی میں میری آس تم ہو
یہ دنیا نہیں ہے میرے پاس تو کیا؟
میرا یہ بھرم تھا میرے پاس تم ہو
مگر تم سے سیکھا، محبت بھی ہو تو
دغا کیجیے گا مُکرجائیے گا
تیرا ہاتھ کل تک میرے ہاتھ میں تھا
تیرا دل دھڑکتا تھا دل میں ہمارے
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں
کبھی ہم نے ان کے ہیں صدقے اتارے
کہیں اب ملاقات ہوجائے ہم سے
بچاکر نظر کو گذر جائیے گا

No comments:
Post a Comment