زندگی کیا ہوئے وہ
اپنے زمانے والے
یاد آتے ہیں بہت دل
کو دکھانے والے
اجنبی بن کے نہ مل
عمر گریزاں ہم سے
تھے کبھی ہم بھی ترے
ناز اٹھانے والے
آ کہ میں دیکھ لوں
کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری
تصویر بنانے والے
کس سے پوچھوں یہ سیہ
رات کٹے گی کس دن
سو گئے جا کے کہاں
خواب دکھانے والے
اب جو روتے ہیں مرے
حال زبوں پر اخترؔ
کل یہی تھے مجھے ہنس
ہنس کے رلانے والے

No comments:
Post a Comment