پانیوں میں جیسے ،
جلتا اک دیا رہ جائے گا
آئینے میں عکس تیرا
،جاں فزا رہ جائے گا
تو گزر جائے گا، مانندِ
صبا چھو کر مجھے
تن پہ تیرا لمس بس
جادو بھرا رہ جائے گا
موسمی ہیں یہ پرندے،
شاخ سے اڑ جائیں گے
اک پپیہا دل کا بس
نغمہ سرا رہ جائے گا
کیسے مرجھائے گی اس
کو ہجر کی باد ۔ سموم
وصل کا اک پھول یادوں
میں کھلا رہ جائے گا
جذب لے جائے گا مجھ
کو عشق کی منزل تلک
اور عقدے کھولتا، عقدہ
کشا رہ جائے گا
تو نہ ہوگا تو جہاں
میں کیا کمی ہو جائے گی
میں نہ ہوں گی ، کام
ایسا کونسا رہ جائے گا
منتظر لمحوں کی وہ
دے جائے گا اک اوڑھنی
پھول نرگس کا ان آنکھوں
میں کھلا رہ جائے گا

No comments:
Post a Comment