اب مجھ میں حال کہنے کا بھی حوصلہ نہیں !
بس ہجر ہے ذرا سا ! کوئی مسئلہ نہیں !
مت پوچھ کیسا ربط ہوا ! اب کے درمیاں !
ہم مل نہیں رہے ہیں ! مگر فاصلہ نہیں !
اک شخص کے وسیلے سے آئے ہیں مرے پاس
مرا تو ان دکھوں سے ! کوئی واسطہ نہیں !
مت پوچھ کس نے ،کیسے ! تعلق پہ بات کی !
جب سر جھکا کے میں نے کہا ! رابطہ نہیں !
وہ اپنی راہ مڑ گیا ! میں سوچتی رہی !
اب کس طرف کو جاؤں ! کہیں راستہ نہیں

No comments:
Post a Comment